مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مسلمان کا مشرک رشتہ دار مر جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3214
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ، ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ ، وَجِئْتُهُ ، فَأَمَرَنِي ، فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا “ ، تو میں گیا ، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أبو إسحاق صرح بالسماع عند النسائي (190 وسنده حسن، 2008)
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 84 (2008)، (تحفة الأشراف: 10287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/97، 131) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔