مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قبر کے پاس کس طرح بیٹھیں؟
حدیث نمبر: 3212
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، وَجَلَسْنَا مَعَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے ، قبر پر پہنچے تو ابھی قبر کی بغل کھدی ہوئی نہ تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3212
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (131، 1713), الاعمش صرح بالسماع عند الحاكم (1/ 37 ح 107) والطبراني في حديث الطوال (25) وسندهما حسن
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 81 (2003)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 37 (1548)، (تحفة الأشراف: 1758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/287، 295، 297، 296) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (4753، 4754) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔