مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟
حدیث نمبر: 3209
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : " غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ ،وَالْفَضْلُ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُرَحَّبٌ ، أَوِ ابْنِ أَبِي مُرَحَّبٍ ، أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ ، قَالَ : إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر شعبی کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی ، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا ، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا ۔ شعبی کہتے ہیں : مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ( دفن سے ) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی ( مردے ) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہوا کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسماعيل بن أبي خالد عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 118
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11246) (صحیح) » (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ دونوں مرسل روایات صحیح ہیں)
حدیث نمبر: 3210
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَحَّبٍ ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومرحب سے روایت ہے کہ` عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے وہ کہتے ہیں : مجھے ایسا لگ رہا ہے گویا کہ میں ان چاروں ( علی ، فضل بن عباس ، اسامہ ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ) کو دیکھ رہا ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, انظر الحديث السابق (3209), ولبعض الحديث شواهد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 118
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11246) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔