مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قبر کھودنے والے کو کوئی ہڈی مل جائے تو کیا وہ اس جگہ کو کریدے (یا چھوڑ دے)۔
حدیث نمبر: 3207
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ ، كَكَسْرِهِ حَيًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردے کی ہڈی توڑنا زندے کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: گویا قبر کھودتے وقت اگر پہلے سے کسی میت کی ہڈی موجود ہے تو اسے چھیڑے بغیر دوسری جگہ قبر تیار کی جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1714), أخرجه ابن ماجه (1616 وسنده حسن) سعد بن سعيد حسن الحديث
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/الجنائز 63 (1616)، (تحفة الأشراف: 17893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/58، 100، 105، 168، 200، 264) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔