مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قبر پر جنازہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: 3203
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ، أَوْ رَجُلًا ، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقِيلَ : مَاتَ ، فَقَالَ : " أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ ؟ ، قَالَ : دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ ، فَدَلُّوهُ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا ، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مر گیا ہے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی ؟ “ آپ نے فرمایا : ” مجھے اس کی قبر بتاؤ “ ، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (458) صحيح مسلم (956)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصلاة 74 (458)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (956)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1527)، (تحفة الأشراف: 14650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/353، 388، 406) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔