مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کے لیے دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ ، فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1674), ابن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 3077)
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1497)، (تحفة الأشراف: 14993) (حسن) »
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ ؟ قَالَ : أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا ، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا ، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا ، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ ، فَاغْفِرْ لَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ ، قَالَ فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ ، وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْمُوصِلِيَّ ، يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، قَالَ : مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا ، إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن شماخ کہتے ہیں` میں مروان کے پاس موجود تھا ، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو ؟ مروان نے کہا : ہاں ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی ( سخت کلامی ) ہو گئی تھی ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ” اے اللہ ! تو ہی اس کا رب ہے ، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے ، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے ، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے ، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے ، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1688), علي بن شماخ ذكره ابن حبان في الثقات وحسن له الحافظ ابن حجر في الفتوحات الربانية (5/176)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة (1078)، (تحفة الأشراف: 14261)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/256، 345، 363، 458) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی علی بن شماخ لین الحدیث ہیں)
حدیث نمبر: 3201
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو یوں دعا کی : «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ” اے اللہ ! تو بخش دے ، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو ، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو ، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو ، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو ، اے اللہ ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے ، اے اللہ ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا ، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1675، 1676), يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند الترمذي (1024) وغيره وللحديث شواھد
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 38 (1024)، (تحفة الأشراف: 15385)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز 77 (1985)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1499)، مسند احمد (2/368) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَمُّ ،حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فِي ذِمَّتِكَ ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ ، وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جَنَاحٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے : «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» ” اے اللہ ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ ( عذاب ) سے بچا لے “ ۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں : «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے : «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! وہ تیری امان میں ہے ، اور تیری حفاظت میں ہے ، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ، تو وعدہ وفا کرنے والا اور لائق ستائش ہے ، اے اللہ ! تو اسے بخش دے ، اس پر رحم فرما ، تو بہت بخشنے والا ، اور رحم فرمانے والا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1677), الوليد بن مسلم صرح بالسماع المسلسل عند ابن المنذر في الأوسط (5/441 ح 3173)
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1499)، (تحفة الأشراف: 11753)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/491) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔