مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جنازے کی تکبیرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق ، عَنِ الشَّعْبِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِقَبْرٍ رَطْبٍ ، فَصَفُّوا عَلَيْهِ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " ، فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبی سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک نئی قبر پر سے ہوا ، تو لوگوں نے اس پر صف بندی کی آپ نے ( نماز پڑھائی اور ) چار تکبیریں کہیں ۔ ابواسحاق کہتے ہیں : میں نے شعبی سے پوچھا : آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی ؟ انہوں نے کہا : ایک معتبر آدمی نے جو اس وقت موجود تھے ، یعنی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3196
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1247) صحيح مسلم (954)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، والجنائز 5 (1247)، 54 (1319)، 55 (1322)، 59 (1326)، 66 (1336)، 69 (1340)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن النسائی/الجنائز 94 (2025)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1530)، (تحفة الأشراف: 5766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 283، 338) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3197
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : " كَانَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى أَتْقَنُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ` زید یعنی ابن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک بار ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا ( آپ ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ کیسے کہیں ؟ ) تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ( بھی ) کہتے تھے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے ابن مثنیٰ کی حدیث زیادہ یاد ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جب پانچ تکبیریں کہی جائیں تو پہلی تکبیر کے بعد دعاء ثنا پڑھے، دوسری کے بعد سورہ فاتحہ، تیسری کے بعد درود، چوتھی کے بعد دعاء اور پانچویں کے بعد سلام پھیرے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (957)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 23 (961)، سنن الترمذی/الجنائز 37 (1023)، سنن النسائی/الجنائز 76 (1984)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 25 (1505)، (تحفة الأشراف: 3671)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/368،370، 371، 372) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔