مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے آ جائیں تو کسے آگے کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3193
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ٍأَنَّهُ شَهِدَ جَنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ ، وَابْنِهَا ، فَجُعِلَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ ، وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، َوَأَبُو قَتَادَةَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالُوا : هَذِهِ السُّنَّةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ` وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام کے قریب رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس ، ابو سعید خدری ، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا : سنت یہی ہے ( یعنی پہلے لڑکے کو رکھنا پھر عورت کو ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه النسائي (1979 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 74 (1979)، (تحفة الأشراف: 4261) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔