مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص شرعی حد میں قتل کیا جائے اس کی نماز جنازہ۔
حدیث نمبر: 3186
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُصَلِّ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا، صحیح بخاری میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، نیز آپ نے غامدیہ رضی اللہ عنہا پر بھی پڑھی، ان کو بھی سنگسار کیا گیا تھا)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح ق جابر دون قوله ولم ينه عن الصلاة عليه , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, النفر البصريون كلھم مجھولون, وحديث عبد الرزاق (13339) والبخاري (6820) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11610) (حسن صحیح) » (اس کی سند میں نفر من أهل البصرة مبہم رواة ہیں، لیکن یہ جماعت تابعین کثرت کی وجہ سے قابل استناد ہیں، نیز جابر کی صحیح حدیث (ابو داود حدیث نمبر (4430) سے اس کو تقویت ہے)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔