مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: امام خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہ پڑھائے۔
حدیث نمبر: 3185
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : مَرِضَ رَجُلٌ ، فَصِيحَ عَلَيْهِ ، فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّهُ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكَ ؟ قَالَ : أَنَا رَأَيْتُهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ ، قَالَ : فَرَجَعَ ، فَصِيحَ عَلَيْهِ ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ ، فَرَجَعَ ، فَصِيحَ عَلَيْهِ ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ : انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبِرْهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ ، فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ : مَا يُدْرِيكَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُهُ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ مَعَهُ ، قَالَ : أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِذًا لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ “ ، وہ بولا : میں اسے دیکھ کر آیا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نہیں مرا ہے “ ، وہ پھر لوٹ گیا ، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی ، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : وہ مر گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نہیں مرا ہے “ ، تو وہ پھر لوٹ گیا ، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی ، تو اس کی بیوی نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو ، اس نے کہا : اللہ کی لعنت ہو اس پر ۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہیں کیسے پتا لگا ؟ “ ، اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے خود دیکھا ہے ؟ “ ، اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میں اس کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3185
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (978)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2160)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (978)، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1066)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1963)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1526)، مسند احمد (5/87، 92، 94، 96، 97) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔