مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3181
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف پہنچانے میں جلدی کرو گے اور اگر نیک نہیں ہے تو تم شر کو جلد اپنی گر دنوں سے اتار پھینکو گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3181
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1315) صحيح مسلم (944)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن الترمذی/الجنائز 30 (1015)، سنن النسائی/الجنائز 44 (1909)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1477)، (تحفة الأشراف: 13124)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 16 (56)، مسند احمد (2/240) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا ، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، فَرَفَعَ سَوْطَهُ ، فَقَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ` وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے ، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا ( ڈرانے کے لیے ) اور کہا : ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ( جنازے لے کر ) تیز چلا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لكن قوله عثمان ابن أبي العاص شاذ والمحفوظ عبدالرحمن بن سمرة , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, قوله عثمان بن أبي العاص وھم، والصواب في جنازة عبد الرحمن بن سمرة انظر الحديث الآتي (3183)
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 44 (1914)، (تحفة الأشراف: 11695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 37، 38) (صحیح) » (اس واقعہ میں عثمان بن ابی العاص کا نام وہم ہے، صحیح نام عبدالرحمن بن سمرہ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)
حدیث نمبر: 3183
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ،حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَا فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَقَالَ : فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ بَغْلَتَهُ ، وَأَهْوَى بِالسَّوْطِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عیینہ سے یہی حدیث مروی ہے` مگر اس میں خالد بن حارث اور عیسیٰ بن یوسف دونوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کا ہے نیز اس میں یہ بھی ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اپنا خچر دوڑایا اور کوڑے سے ( جلدی ) چلنے کا اشارہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح وهذا هو المحفوظ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (1913 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11695) (صحیح) وهذا هو المحفوظ »
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ ، فَقَالَ " مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلَ إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ ، وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ ، وَلَا تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ ضَعِيفٌ ، هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا كُوفِيٌّ ، وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِيٌّ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو مَاجِدَةَ هَذَا لَا يُعْرَفُ 10 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : «خبب» ۱؎ سے کچھ کم ، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا ، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے ، جنازہ کی پیروی کی جائے گی ( یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے ) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا ، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں ، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں ، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: چال کی ایک قسم ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1011) ابن ماجه (1484), يحيي بن عبد اللّٰه المجبر : لين الحديث وأبوماجدة : مجهول (تق : 7581،8334), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 27 (1011)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1484)، (تحفة الأشراف: 9637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 394، 415، 419، 432) (ضعیف) » (اس کے راوی یحییٰ الجابر لین الحدیث، اور ابوماجدة مجہول ہیں، واضح رہے کہ ابوماجد ، کو ابوماجدہ نیز ابن ماجدہ کہا جاتا ہے)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔