مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جنازے کے آگے آگے چلنا۔
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ،وَعُمَرَ ، يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1668), الراجح أنه حديث صحيح و أعل بما لا يقدح والزھري صرح بالسماع
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007)، سنن النسائی/الجنائز 56 (1946)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1482)، (تحفة الأشراف: 6820)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 3 (8)، مسند احمد (2/8، 122) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3180
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَأَحْسَبُ أَنَّ أَهْلَ زِيَادٍ أَخْبَرُونِي ، أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ ، وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا ، وَأَمَامَهَا ، وَعَنْ يَمِينِهَا ، وَعَنْ يَسَارِهَا ، قَرِيبًا مِنْهَا ، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ ، وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار جنازے کے پیچھے چلے ، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے ، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے ، اور کچے بچوں ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: ایسے ببچے جو مدت حمل پوری ہونے سے پہلے پیدا ہو جائیں اور زندہ رہ کر مر جائیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1667), أخرجه الترمذي (1031 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1507 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 42 (1031)، سنن النسائی/الجنائز 55 (1944)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1481)، 26 (1507)، (تحفة الأشراف: 11490)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247، 248، 249، 252) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔