مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جنازہ میں سوار ہو کر جانا۔
حدیث نمبر: 3177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ،عَنْ ثَوْبَانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُتِيَ بِدَابَّةٍ ، وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ ، فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ ، فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا : ” جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں ، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2121)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1480) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3178
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ ، وَنَحْنُ شُهُودٌ ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ ، فَعُقِلَ حَتَّى رَكِبَهُ ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ ، وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھی ، اور ہم موجود تھے ، پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوئے ، وہ اکڑ کر ٹاپ رکھنے لگا ، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے ( تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (965)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 28 (965)، سنن الترمذی/الجنائز 29 (1013)، (تحفة الأشراف: 2180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/90، 95، 98) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔