مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ۔
حدیث نمبر: 3172
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ ، فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ ، أَوْ تُوضَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جب تم جنازے کو دیکھو تو ( اس کے احترام میں ) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا ( زمین پر ) رکھ دیا جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1307) صحيح مسلم (958)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 46 (1307)، 47 (1308)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (958)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1042)، سنن النسائی/الجنائز 45 (1916)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1542)، (تحفة الأشراف: 5041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/445، 446، 447) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3173
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبِعْتُمُ الْجَنَازَةَ ، فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ فِيهِ : حَتَّى تُوضَعَ بِالْأَرْضِ ، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَسُفْيَانُ : أَحْفَظُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو “ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے : ” یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے “ اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4124)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 48 (1310)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (959)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1043)، سنن النسائی/الجنائز 44 (1915)، 45 (1918)، 80 (2000)، مسند احمد (3/25، 41، 51، 85، 97) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3174
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ ، فَقَامَ لَهَا ، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ ، إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً ، فَقُومُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت ڈرنے کی چیز ہے ، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1311) صحيح مسلم (960)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 49 (1311)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (960)، سنن النسائی/الجنائز 46 (1923)، (تحفة الأشراف: 2386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/319، 354) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3175
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي الْجَنَائِزِ ، ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازوں میں ( دیکھ کر ) کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر اس کے بعد بیٹھے رہنے لگے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (962), مشكوة المصابيح (1650)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن النسائی/الجنائز 81 (2001)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/ الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الجنائز 11 (33)، مسند احمد (1/82، 83، 131، 138) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3176
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي ، اللَّحْدِ فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : هَكَذَا نَفْعَلُ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اجْلِسُوا خَالِفُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے ، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا ، بیٹھتے نہ تھے ، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا : ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ( اس کے بعد سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے ، اور فرمایا : ” ( مسلمانو ! ) تم ( بھی ) بیٹھے رہو ، ان کے خلاف کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1020) ابن ماجه (1545), قال الترمذي :’’ غريب،وبشربن رافع ليس بالقوي في الحديث ‘‘وعبد اللّٰه بن سليمان بن جنادة ضعيف (تقريب التهذيب:3369), وأبوه منكر الحديث (تق : 2542), وللحديث شواھد ضعيفةوحديث مسلم (962) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الجنائز 35 (1020)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1545)، (تحفة الأشراف: 5076) (حسن) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔