مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کو نہلانے والے کے لیے غسل کرنے کا مسئلہ۔
حدیث نمبر: 3160
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے : جنابت سے ، جمعہ کے دن ، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان میں جنابت کے علاوہ کوئی اور غسل فرض نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (542), صححه ابن خزيمة (256 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (348)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (348)، (تحفة الأشراف: 16193) (ضعیف) » (اس کے راوی مصعب ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 3161
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ ، فَلْيَغْتَسِلْ ، وَمَنْ حَمَلَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میت کو نہلائے اسے چاہیئے کہ خود بھی نہائے ، جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیئے کہ وضو کر لے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ دونوں حکم مستحب ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمرو بن عمير مجھول،وللحديث شوھد منھا الحديث الآتي (3162), قال معاذ علي زئي: والصحيح فيه أنه موقوف علي أبي هريرة،كما رواه ابن ابي شيبه (2/ 470 ح 11152) موقوفًا عن ابي ھريرة وسنده حسن وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14275)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 17 (993)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1463) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا مَنْسُوخٌ ، وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، وَسُئِلَ عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ ، فَقَالَ : يُجْزِيهِ الْوُضُوءُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَدْخَلَ أَبُو صَالِحٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، يَعْنِي إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ ، قَالَ : وَحَدِيثُ مُصْعَبٍ ضَعِيفٌ ، فِيهِ خِصَالٌ لَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ۔` ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث منسوخ ہے ، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے : جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : اسے وضو کر لینا کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے ، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وللحديث شواھد عندالترمذي (993) وانظر الحديث السابق (348), قال معاذ علي زئي: والصحيح فيه أنه موقوف علي أبي هريرة،كما رواه ابن ابي شيبه (2/ 470 ح 11152) موقوفًا عن ابي ھريرة وسنده حسن وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12184) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔