مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جنازہ لے جانے میں جلدی کرنا مستحب اور اسے روکے رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 3159
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عِيسَى ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ عَزْرَةَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ : عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ ، فَآذِنُونِي بِهِ ، وَعَجِّلُوا ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے ، اور فرمایا : ” میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں ، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا ، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عروة بن سعيد و أبوه : مجهولان (تق : 4562،2426), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3418) (ضعیف) » (اس کے راوی سعید بن عثمان لین الحدیث اور عروة مجہول ہیں)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔