مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورت کے کفن کا بیان۔
حدیث نمبر: 3157
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ ، نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَنْ لَيْلَى بِنْتَ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحِقَاءَ ، ثُمَّ الدِّرْعَ ، ثُمَّ الْخِمَارَ ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ ، قَالَتْ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ ، مَعَهُ كَفَنُهَا ، يُنَاوِلُنَاهَا ثَوْبًا ثَوْبًا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے ( جنہیں داود کہا جاتا تھا ، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی ) کہ` لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا ، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا ، پھر کرتہ دیا ، پھر اوڑھنی دی ، پھر چادر دی ، پھر ایک اور کپڑا دیا ، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ۱؎ ۔ لیلیٰ کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے کفن کے پانچ کپڑے مسنون ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3157
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نوح بن حكيم مجهول (تق : 7204) وثقه ابن حبان وحده وفي السند علة أخري انظر نصب الراية (258/4), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18056)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/380) (ضعیف) » (اس کے راوی نوح مجہول ہیں)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔