حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ ، أَوْ فِي حَلْقِهِ ، فَمَاتَ ، فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ ، قَالَ : وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص سینے یا حلق میں تیر لگنے سے مر گیا تو اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا ، اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى أُحُدٍ ، أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ ، وَالْجُلُودُ ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین ( شہداء ) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں ، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے ۔
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُمْ : أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا ، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ۔
حدیث نمبر: 3136
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، الْمَعْنَى أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا ، لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ . حتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا ، وَقَلَّتِ الثِّيَابُ ، وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى ، فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، زَادَ قُتَيْبَةُ : ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ : " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا ؟ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( غزوہ احد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ ( حمزہ بن عبدالمطلب ) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے ، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا : ” اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا ، پرندے کھا جاتے ، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے “ ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت ، ( حال یہ تھا ) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک ، دو دو ، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے ۱؎ ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ : پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت ایک کفن یا ایک قبر میں کئی آدمیوں کو دفنانا درست ہے۔
حدیث نمبر: 3137
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَمْزَةَ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: چوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اس لئے بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آپ نے ان کے لئے دعا کی۔
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ : أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ ، وَيَقُولُ : أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا ، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ` جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبر میں ( لٹانے میں ) آگے کرتے اور فرماتے : ” میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا ، اور انہیں غسل نہیں دیا ۔
حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ : بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی لیث سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں دفن کرتے تھے ۔