حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3128
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ ( دلچسپی سے ) سننے والی پر لعنت فرمائی ہے ۔
حدیث نمبر: 3129
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، وأبي معاوية ، المعني عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : وَهِلَ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ؟ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ " . ثُمَّ قَرَأَتْ : وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 . قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ : عَلَى قَبْرِ يَهُودِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۱؎ ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا : ان سے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے ، سچ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں “ ، پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ ( سورۃ الإسراء : ۱۵ ) پڑھی ۔ ابومعاویہ کی روایت میں «على قبر» کے بجائے «على قبر يهودي» ہے ، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا ۔
وضاحت:
۱؎: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے، حالاں کہ رونا یا نوحہ کرنا بذات خود میت کا عمل نہیں ہے، پھر غیر کے عمل پر اسے عذاب دیا جانا باعث تعجب ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ مرنے والے کو اگر یہ معلوم ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے مجھ پر نوحہ کریں گے اور اس نے قدرت رکھنے کے باوجود قبل از موت اس سے منع نہیں کیا تو نہ روکنا اس کے لئے باعث سزا ہو گا، اور اس کے گھر والے اگر آہ و بکا کئے بغیر آنسو بہا رہے ہیں تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابراہیم اور ام کلثوم کے انتقال پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پوچھے جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو رحمت ہے اللہ نے جس کے دل میں چاہا رکھا۔
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ ثَقِيلٌ ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَبْكِيَ ، أَوْ تَهُمَّ بِهِ ، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى : أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : فَسَكَتَتْ ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ يَزِيدُ : لَقِيتُ الْمَرْأَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا قَوْلُ أَبِي مُوسَى لَكِ : أَمَا سَمِعْتِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَكَتِّ ؟ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ ، وَمَنْ سَلَقَ ، وَمَنْ خَرَقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن اوس کہتے ہیں کہ` ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا ، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے ؟ وہ بولیں : کیوں نہیں ، ضرور سنا ہے ، تو وہ چپ ہو گئیں ، یزید کہتے ہیں : جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قول : ” کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے “ پھر آپ چپ ہو گئیں کا کیا مطلب تھا ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو ( میت کے غم میں ) اپنا سر منڈوائے ، جو چلا کر روئے پیٹے ، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ کفر کی رسم تھی جب کوئی مر جاتا تو اس کے غم میں یہ سب کام کئے جاتے تھے، جس طرح ہندؤوں میں بال منڈوانے کی رسم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں صبر کرنا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّبَذَةِ ، حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ ، قَالَتْ : " كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا ، أَنْ لَا نَعْصِيَهُ فِيهِ : أَنْ لَا نَخْمُشَ وَجْهًا ، وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا ، وَلَا نَشُقَّ جَيْبًا ، وَأَنْ لَا نَنْشُرَ شَعَرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم ( کسی کے مرنے پر ) نہ منہ نوچیں گے ، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے ، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے ۔