مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت پر رونا۔
حدیث نمبر: 3125
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَسَعْدٌ ، وَأَحْسَبُ أُبَيًّا أَنَّ ابْنِي أَوْ بِنْتِي قَدْ حُضِرَ ، فَاشْهَدْنَا ، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ ، فَقَالَ : قُلْ " لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى ، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ ، فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ ، فَأَتَاهَا ، فَوُضِعَ الصَّبِيُّ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : إِنَّهَا رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواباً ) سلام کہلا بھیجا ، اور فرمایا : ” ان سے ( جا کر ) کہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو چیز کہ وہ لے ، اور اسی کی ہے جو چیز کہ وہ دے ، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے “ ۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا ، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھیں بہ پڑیں ، سعد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رحمت ہے ، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے ، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1284) صحيح مسلم (923)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 32 (1284)، والمرضی 9 (5655)، والقدر 4 (6602)، والأیمان والنذور 9 (6655)، والتوحید 2 (7377)، 25 (7448)، صحیح مسلم/الجنائز 6 (923)، سنن النسائی/الکبري الجنائز 22 (1969)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1588)، (تحفة الأشراف: 98)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/204، 206، 207) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَدْمَعُ الْعَيْنُ ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا ، إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا ، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا “ ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے ، آپ نے فرمایا : ” آنکھ آنسو بہا رہی ہے ، دل غمگین ہے ۱؎ ، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے ، اے ابراہیم ! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسو کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے، البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔
۲؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2315), وأصله عند البخاري (1303)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 43 (1303)، صحیح مسلم/الفضائل 15 (2315)، (تحفة الأشراف: 405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/194) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔