حدیث نمبر: 3124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا " اتَّقِي اللَّهَ ، وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : وَمَا تُبَالِي أَنْتَ بِمُصِيبَتِي ؟ فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَعْرِفْكَ . فَقَالَ : إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، أَوْ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں ( بآواز ) رو رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ۱؎ “ ، اس عورت نے کہا : آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ۲؎ ؟ ، تو اس سے کہا گیا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ( جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی ) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو “ یا فرمایا : ” صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نوحہ مت کر ورنہ اسے عذاب دیا جائے گا۔
۲؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔
۲؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔