مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: تعزیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3123
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مَيِّتًا ، فَلَمَّا فَرَغْنَا ، انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْصَرَفْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا حَاذَى بَابَهُ وَقَفَ ، فَإِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ ، قَالَ : أَظُنُّهُ عَرَفَهَا ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ ، إِذَا هِيَ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَخْرَجَكِ يَا فَاطِمَةُ مِنْ بَيْتِكِ ؟ فَقَالَتْ : أَتَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ ، فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ ، أَوْ عَزَّيْتُهُمْ بِهِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى ، قَالَتْ : مَعَاذَ اللَّهِ ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهَا مَا تَذْكُرُ ، قَالَ : لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى " فَذَكَرَ تَشْدِيدًا فِي ذَلِكَ ، فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ عَنِ الْكُدَى ، فَقَالَ : الْقُبُورُ فِيمَا أَحْسَبُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک میت کو دفنایا ، جب ہم تدفین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے ، ہم بھی آپ کے ساتھ لوٹے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دروازے کے سامنے آئے تو رک گئے ، اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک عورت چلی آ رہی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پہچان لیا ، جب وہ چلی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” فاطمہ ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ؟ “ ، انہوں نے کہا : ” اللہ کے رسول ! میں اس گھر والوں کے پاس آئی تھی تاکہ میں ان کی میت کے لیے اللہ سے رحم کی دعا کروں یا ان کی تعزیت کروں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” شاید تم ان کے ساتھ کُدی ( مکہ میں ایک جگہ ہے ) گئی تھی “ ، انہوں نے کہا : معاذاللہ ! میں تو اس بارے میں آپ کا بیان سن چکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان کے ساتھ کدی گئی ہوتی تو میں ایسا ایسا کرتا “ ، ( اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت رویے کا اظہار فرمایا ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ربیعہ سے کدی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں اس سے قبریں مراد ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (1881 وسنده حسن) ربيعة بن سيف حسن الحديث
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 27 (1881)، (تحفة الأشراف: 8853)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/169، 223) (ضعیف) (اس کے راوی''ربیعہ '' کی ثقاہت میں بہت کلام ہے) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔