مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کے پاس کس قسم کی گفتگو کی جائے؟
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُولِي : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً " . قَالَتْ : فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو ۱؎ اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں “ ، تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں کیا کہوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کہو :  «اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة» ” اے اللہ ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما “ ۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمایا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دعائے مغفرت وغیرہ کرو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (919)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 3 (919)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (977)، سنن النسائی/الجنائز 3 (1824)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1447)، 55 (1598)، (تحفة الأشراف: 18162، 18247)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 14 (42)، مسند احمد (6/291، 306) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔