مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مستحب ہے کہ انسان موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھے۔
حدیث نمبر: 3113
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ : قَالَ : " لَا يَمُوتُ أَحَدُكُمْ ، إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کہ اللہ اس کی غلطیوں کو معاف کرے گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3113
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2877)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا 19 (2877)، سنن ابن ماجہ/الزھد 14 (4167)، (تحفة الأشراف: 2295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/315، 325، 330، 334، 390) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔