مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اس شخص کی فضیلت جو طاعون سے مر جائے۔
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَمَّهُ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ ، فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُنَّ ، فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ ، قَالُوا : وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : الْمَوْتُ ، قَالَتِ ابْنَتُهُ : وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا ، فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ؟ قَالُوا : الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشَّهَادَةُ سَبْعٌ ، سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے تو ان کو بیہوش پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا ، اور فرمایا : ” اے ابوربیع ! تمہارے معاملے میں قضاء ہمیں مغلوب کر گئی “ ، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں ، اور رونے لگیں تو ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوڑ دو ( رونے دو انہیں ) جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول : واجب ہونے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت “ ، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں : میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کر لی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے چکا ، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا شہادت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں : طاعون میں مر جانے والا شہید ہے ، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے ، ” ذات الجنب “ ( نمونیہ ) سے مر جانے والا شہید ہے ، پیٹ کی بیماری ( دستوں وغیرہ ) سے مر جانے والا شہید ہے ، جل کر مر جانے والا شہید ہے ، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے ، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مر جائے تو وہ بھی شہید ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3111
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1561), أخرجه النسائي (1847 وسنده صحيح) وابن ماجه (2803 وسنده حسن)
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 14 (1847)، الجہاد 48 (3196)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 17 (2803)، (تحفة الأشراف: 3173)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 12 (36)، مسند احمد (5/446) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔