مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: موت کا اچانک آ جانا۔
حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` ( راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا ) : ” اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کے غضب کی علامت ہے، کیونکہ اس میں بندے کو مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنے سفر آخرت کا سامان درست کر سکے، یعنی توبہ و استغفار، وصیت یا کوئی عمل صالح کر سکے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9743)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/424، 4/219) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔