مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا۔
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مِرَارٍ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، أَنْ يَشْفِيَكَ ، إِلَّا عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَرَضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے :  «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم» ” میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے “ تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1553), أخرجه الترمذي (2083 وسنده حسن) أبو خالد الدالاني وثقه الجمھور وھو صرح بالسماع عند الترمذي وتابعه عبد ربه بن سعيد عند النسائي في الكبريٰ (10815) وغيره
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الطب 32 (2083)، (تحفة الأشراف: 5628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/239، 243) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا ، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ : إِلَى صَلَاةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے : «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1556), عبد الله بن وهب المصري صرح بالسماع عند ابن حبان (715)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/172) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔