مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَاهَا ، قَالَ : اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ ، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا` میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی : «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» ” اے اللہ ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مکہ سے مدینہ پہنچا دے ایسا نہ ہو کہ مکہ ہی میں انتقال ہوجائے اور ہجرت ناقص رہ جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5659)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/ المرضی 13 (5659)، سنن النسائی/ الوصایا 3 (3656)، (تحفة الأشراف: 3953)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/171) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَالْعَانِي : الْأَسِيرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، مریض کی عیادت کرو اور ( مسلمان ) قیدی کو ( کافروں کی ) قید سے آزاد کراؤ “ ۔ سفیان کہتے ہیں : «العاني» سے مرا «داسیر» ( قیدی ) ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5373)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجھاد 171 (3046)، النکاح 71 (5174)، الأطعمة 1 (5373)، الطب 4 (5649)، الأحکام 23 (7173)، (تحفة الأشراف: 9001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394)، سنن الدارمی/السیر 27 (2508) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔