مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا ، بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، وَمَا الْخَرِيفُ ؟ قَالَ : الْعَامُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ ، وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے “ ، میں نے کہا ! اے ابوحمزہ ! «خریف» کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : سال ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الفضل بن دلھم لين ورمي بالإعتزال (تق : 5402) ضعفه الجمهور… واختلف قول أحمد وابن معين فيه و ضعفه راجح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 461) (ضعیف) » (اس کے راوی فضل بن دلہم لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 3098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا ، إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا ، خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں ، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے ، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں ، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحكم بن عتيبة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، وانظر الحدیث الآتي، (تحفة الأشراف: 10211) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3099
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَكَمِ أَبِي حَفْصٍ ، كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں` لیکن انہوں نے اس میں «خریف» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مرفوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (1442), سليمان الأعمش و الحكم بن عتيبة لم يصرحا بالسماع وروي ابن حبان (الموارد: 710) عن علي رضي اللّٰه عنه قال: سمعت رسول اللّٰه ﷺ يقول : ((ما من امرئ مسلم يعود مسلمًا إلا ابتعث اللّٰه سبعين ألف ملك يصلون عليه في أي ساعات النھار حتي يمسي و في أي ساعات الليل حتي يصبح)) وسنده حسن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/الجنائز 2 (1442)، (تحفة الأشراف: 10211)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 2 (969)، مسند احمد (1/81، 120) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : وَكَانَ نَافِعٌ غُلَامُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے ، راوی کہتے ہیں` اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں : ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف طریق سے مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مرفوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحكم عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
حدیث تخریج « انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 10211) (صحیح مرفوع) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔