حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ ، قَالَتْ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا مَرِيضَةٌ ، فَقَالَ : " أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی ، آپ نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ، اے ام العلاء ! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3093
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ،عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ ، قَالَ : " أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ ؟ قَالَتْ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، قَالَ : أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ ، وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ، قَالَتْ : أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ : فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 ، قَالَ : ذَاكُمُ الْعَرْضُ ، يَا عَائِشَةُ ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ ! “ ، انہوں نے کہا : اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ” جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “ ( سورۃ النساء : ۱۲۳ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے ، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ” اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا “ ( سورۃ الانشقاق : ۸ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے ، اے عائشہ ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا “ ۔