مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جب کوئی شخص کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو پھر کوئی مرض یا سفر اسے مشغول کر دے اور وہ اسے نہ کر سکے تو کیا اسے اس عمل کا ثواب ملے گا؟
حدیث نمبر: 3091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَمُسَدَّدٌ ، الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، وَلَا مَرَّتَيْنِ ، يَقُولُ : " إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا ، فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ ، أَوْ سَفَرٌ ، كُتِبَ لَهُ كَصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ ، وَهُوَ صَحِيحٌ مُقِيمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا : ” جب بندہ کوئی نیک عمل ( پابندی سے ) کر رہا ہو ، پھر کوئی مرض ، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے ، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2996)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجھاد 134(2996)، (تحفة الأشراف: 9035)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/410، 418) (حسن) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔