کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: امام یا کوئی اور شخص زمین (چراگاہ اور پانی) اپنے لیے گھیر لے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3083
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع ( ایک جگہ کا نام ہے ) کو «حمی» ( چراگاہ ) بنایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2370)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/المساقاة 11 (2370)، الجہاد 146 (3012)، (تحفة الأشراف: 4941)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/37، 38، 71، 73) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3084
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حمَى النَّقِيعَ ، وَقَالَ : " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنایا ، اور فرمایا : ” اللہ کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی حکومت کے مویشی جیسے جہاد سے یا زکاۃ میں حاصل ہونے والے جانوروں کے لیے چراگاہ کو خاص کرنا جائز ہے، اور عام آدمی کسی جگہ یا چشمہ وغیرہ کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے روک لے تو یہ صحیح نہیں ہے، یہ حکم ایسی زمینوں کا ہے جو کسی خاص آدمی کی ملکیت اور قبضے میں نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3084
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (3083)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4941) (حسن) »