حدیث نمبر: 3081
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُعَاذٍ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا ( یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا ) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا ( یعنی اس نے اچھا نہ کیا ) ۔
حدیث نمبر: 3082
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الإِسْلَامَ ظَهْرَهُ " ، قَالَ : فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِي : أَشُبَيْبٌ حَدَّثَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلَيَّ بِالْحَدِيثِ ، قَالَ : فَكَتَبَهُ لَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدِهِ مِنَ الأَرْضِينَ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے ( گویا ) اپنی ہجرت فسخ کر دی اور جس نے کسی کافر کی ذلت ( یعنی جزیہ کو ) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا ( یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کر لیا ) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا “ ۔ ( اس حدیث کے راوی سنان ) کہتے ہیں : خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا : کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں ۔ سنان کہتے ہیں : ( میں نے ان سے کہا ) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر ( مجھ کو ) دی ، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس ( کاغذ ) مانگا میں نے ان کو دے دیا ، جب انہوں نے اسے پڑھا ، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں ، شعبہ کے شاگرد نہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حکم غالباً ابتداء اسلام میں تھا یا پھر یہ تہدید ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ صر ف کاشتکار بن کر رہ جائے اور جہاد کو بھول جائے۔