حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَ مُوتَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل رضی اللہ عنہ ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضر موت ۱؎ میں زمین کا ٹکڑا جاگیر میں دیا ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یمن کا ایک شہر ہے۔
۲؎: حاکم یا حکومت کی طرف سے رعایا کو دی گئی زمین کو جاگیر کہتے ہیں۔
۲؎: حاکم یا حکومت کی طرف سے رعایا کو دی گئی زمین کو جاگیر کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3059
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی علقمہ بن وائل سے` اسی کے مثل روایت مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ بِقَوْسٍ ، وَقَالَ : " أَزِيدُكَ أَزِيدُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مجھے گھر بنانے کے لیے کمان سے نشان لگا کر ایک زمین دی اور فرمایا : ” میں تمہیں مزید دوں گا مزید دوں گا “ ( فی الحال یہ لے لو ) ۔
حدیث نمبر: 3061
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے کئی لوگوں سے روایت کی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو فرع ۱؎ کی طرف کے قبلیہ ۲؎ کے کان دیئے ، تو ان کانوں سے آج تک زکاۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا رہا ۔
وضاحت:
۱؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
۲؎: قبلیہ ایک گاؤں ہے جو فرع کے متعلقات میں سے ہے۔
۲؎: قبلیہ ایک گاؤں ہے جو فرع کے متعلقات میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 3062
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، قَالَ الْعَبَّاسُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا ، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ، وَقَالَ غَيْرُ الْعَبَّاسُ : جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ . قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ : وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں ٹھیکہ میں دیں ۱؎ ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں ) اور دیگر لوگوں نے «جلسيها وغوريها» کہا ہے ) اور قدس ( ایک پہاڑ کا نام ہے ) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کر دی ، وہ اس طرح تھی : ” بسم الله الرحمن الرحيم ، ، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں ، ٹھیکہ دیا اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہو سکتی ہے ، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا “ ۔ ابواویس راوی کہتے ہیں : مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کے نام سے الاٹ کر دیا۔
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحُنَيْنِيَّ ، قَالَ : قَرَأْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ يَعْنِي كِتَابَ قَطِيعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد :وحَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ، قَالَ ابْنُ النَّضْرِ : وَجَرْسَهَا وَذَاتَ النُّصُبِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ حَقَّ مُسْلِمٍ ، وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ ، قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ : وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، زَادَ ابْنُ النَّضْرِ ، وَكَتَبَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن نضر کہتے ہیں کہ` میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں : مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں ۔ ابن نضر کی روایت میں ہے : اور اس کے جرس اور ذات النصب ۱؎ کو دیا ، پھر دونوں راوی متفق ہیں : اور قدس کی قابل کاشت زمین دی ، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کر دی ، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں ، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا ۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ ( یہ دستاویز ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی ۔
وضاحت:
۱؎: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دو جگہوں کے نام ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین کی قسموں کے نام ہیں۔
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، الْمَعْنَى وَاحِد أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيَّ حَدَّثَهُمْ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ،عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شُمَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ ابْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ : الَّذِي بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ فَلَمَّا أَنْ وَلَّى ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ : أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ ، قَالَ : فَانْتَزَعَ مِنْهُ ، قَالَ وَسَأَلَهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ ، قَالَ : مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ : أَخْفَافُ الإِبِلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نمک کی کان کی جاگیر مانگی ( ابن متوکل کی روایت میں ہے : جو مآرب ۱؎ میں تھی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دی ، لیکن جب وہ واپس مڑے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا : جانتے ہیں کہ آپ نے ان کو کیا دے دیا ہے ؟ آپ نے ان کو ایسا پانی دے دیا ہے جو ختم نہیں ہوتا ، بلا محنت و مشقت کے حاصل ہوتا ہے ۲؎ وہ کہتے ہیں : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لے لیا ، تب انہوں نے آپ سے پوچھا : پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ گھیری جائے ؟ ۳؎ ، آپ نے فرمایا : ” جہاں جانوروں کے پاؤں نہ پہنچ سکیں “ ۴؎ ۔ ابن متوکل کہتے ہیں : خفاف سے مراد «أخفاف الإبل» ( یعنی اونٹوں کے پیر ) ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
۲؎: یعنی یہ چیز تو سب کے استعمال و استفادہ کی ہے اسے کسی خاص شخص کی جاگیر میں دے دینا مناسب نہیں۔
۳؎: کہ جس میں اور لوگ نہ آ سکیں اور اپنے جانور وہاں نہ چرا سکیں۔
۴؎: یعنی جو آبادی اور چراگاہ سے دور ہو۔
۲؎: یعنی یہ چیز تو سب کے استعمال و استفادہ کی ہے اسے کسی خاص شخص کی جاگیر میں دے دینا مناسب نہیں۔
۳؎: کہ جس میں اور لوگ نہ آ سکیں اور اپنے جانور وہاں نہ چرا سکیں۔
۴؎: یعنی جو آبادی اور چراگاہ سے دور ہو۔
حدیث نمبر: 3065
حدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ : مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الإِبِلِ يَعْنِي أَنَّ الإِبِلَ تَأْكُلُ مُنْتَهَى رُءُوسِهَا وَيُحْمَى مَا فَوْقَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہارون بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` محمد بن حسن مخزومی نے کہا : «ما لم تنله أخفاف الإبل» کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ کا سر جہاں تک پہنچے گا وہاں تک وہ کھائے ہی کھائے گا اس سے اوپر کا حصہ بچایا جا سکتا ہے ( اس لیے ایسی جگہ گھیرو جہاں اونٹ جاتے ہی نہ ہوں ) ۔
حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الأَرَاكِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ ، فَقَالَ : أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حِمَى فِي الأَرَاكِ " ، قَالَ : فَرَجٌ يَعْنِي بِحِظَارِي الأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیلو میں روک نہیں ہے “ ، انہوں نے کہا : پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیلو میں روک نہیں ہے “ ( اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے ) ۔ فرج کہتے ہیں : «حظاری» سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایک احاطہ جس میں دوسرے لوگ آ کر نہ درخت کاٹیں نہ اس میں اپنے جانور چرائیں۔
حدیث نمبر: 3067
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا ثَقِيفًا ، فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِكَ صَخْرٌ رَكِبَ فِي خَيْلٍ يُمِدُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يَفْتَحْ ، فَجَعَلَ صَخْرٌ يَوْمَئِذٍ عَهْدَ اللَّهِ وَذِمَّتَهُ أَنْ لَا يُفَارِقَ هَذَا الْقَصْرَ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُفَارِقْهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَخْرٌ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ ثَقِيفًا قَدْ نَزَلَتْ عَلَى حُكْمِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي خَيْلٍ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَدَعَا لِأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا ، وَأَتَاهُ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِي وَدَخَلَتْ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ فَدَعَاهُ فَقَالَ : " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْمُغِيرَةِ عَمَّتَهُ ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ وَسَأَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِبَنِي سُلَيْمٍ قَدْ هَرَبُوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَتَرَكُوا ذَلِكَ الْمَاءَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْزِلْنِيهِ أَنَا وَقَوْمِي ، قَالَ : نَعَمْ فَأَنْزَلَهُ وَأَسْلَمَ ، يَعْنِي السُّلَمِيِّينَ فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِمُ الْمَاءَ فَأَبَى ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَسْلَمْنَا وَأَتَيْنَا صَخْرًا لِيَدْفَعَ إِلَيْنَا مَاءَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا فَأَتَاهُ فَقَالَ : يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْقَوْمِ مَاءَهُمْ ، قَالَ : نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ " ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ عِنْدَ ذَلِكَ حُمْرَةً حَيَاءً مِنْ أَخْذِهِ الْجَارِيَةَ وَأَخْذِهِ الْمَاءَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جہاد کیا ( یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے ) چنانچہ جب صخر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو چکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے ، تو صخر رضی اللہ عنہ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کر دیں ( پھر ایسا ہی ہوا ) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ گئے ۔ صخر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا : ” امّا بعد ، اللہ کے رسول ! ثقیف آپ کا حکم مان گئے ہیں اور وہ اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ ہیں میں ان کے پاس جا رہا ہوں ( تاکہ آگے کی بات چیت کروں ) “ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور نماز میں احمس ۱؎ کے لیے دس ( باتوں کی ) دعائیں مانگیں اور ( ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی ) : «اللهم بارك لأحمس في خيلها ورجالها» ” اے اللہ ! احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے “ ، پھر سب لوگ ( یعنی ضحر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور کہا : اللہ کے نبی ! صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ وہ اس ( دین ) میں داخل ہو چکی ہیں جس میں سبھی مسلمان داخل ہو چکے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اور فرمایا : ” صخر ! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو بچا اور محفوظ کر لیتی ہے ، اس لیے مغیرہ کی پھوپھی کو انہیں لوٹا دو “ ، تو صخر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دی ، پھر صخر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمیوں کے پانی کے چشمے کو مانگا جسے وہ لوگ اسلام کے خوف سے چھوڑ کر بھاگ لیے تھے ، صخر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے نبی ! آپ مجھے اور میری قوم کو اس پانی کے چشمے پہ رہنے اور اس میں تصرف کرنے کا حق و اختیار دے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” ہاں ہاں ( لے لو اور ) رہو “ ، تو وہ لوگ رہنے لگے ( اور کچھ دنوں بعد ) بنو سلیم مسلمان ہو گئے اور صخر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور صخر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں پانی ( کا چشمہ ) واپس دے دیں ، صخر رضی اللہ عنہ ( اور ان کی قوم ) نے دینے سے انکار کیا ( اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چشمہ انہیں اور ان کی قوم کو دے دیا ہے ) تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں ، ہم صخر کے پاس پہنچے ( اور ان سے درخواست کی ) کہ ہمارا پانی کا چشمہ ہمیں واپس دے دیں تو انہوں نے ہمیں لوٹانے سے انکار کر دیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا : ” صخر ! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیتی ہے ( نہ اسے ناحق قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے ) تو تم ان کو ان کا چشمہ دے دو “ صخر رضی اللہ عنہ نے کہا : بہت اچھا اللہ کے نبی ! ( صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو دیکھا کہ وہ شرم و ندامت سے بدل گیا اور سرخ ہو گیا ( یہ سوچ کر ) کہ میں نے اس سے لونڈی بھی لے لی اور پانی بھی ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: احمس ایک قبیلہ ہے، صخر اسی قبیلہ کے ایک فرد تھے۔
۲؎: لونڈی وہی مغیرہ کی پھوپھی اور پانی وہی بنی سلیم کے پانی کا چشمہ۔
۲؎: لونڈی وہی مغیرہ کی پھوپھی اور پانی وہی بنی سلیم کے پانی کا چشمہ۔
حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ ، فَأَقَامَ ثَلَاثًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ فَقَالَ لَهُمْ : " مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ ؟ فَقَالُوا : بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَ : قَدْ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ فَاقْتَسَمُوهَا فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ فَعَمِلَ " ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع جہنی کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ، وہاں تین دن قیام کیا ، پھر تبوک ۱؎ کے لیے نکلے ، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ” مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے ؟ “ ، لوگوں نے کہا : بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ، ، میں یہ زمین ( علاقہ ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا ، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا ، اور اس میں محنت و مشقت ( یعنی زراعت ) کی ۔ ابن وہب کہتے ہیں : میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا ۔
وضاحت:
۱؎: تبوک مدینہ سے شمال شام کی طرف ایک جگہ کا نام ہے، جہاں نو ہجری میں لشکر اسلام گیا تھا۔
حدیث نمبر: 3069
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ نَخْلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ ( اسماء رضی اللہ عنہا کے خاوند ہیں ) کو کھجور کے کچھ درخت بطور جاگیر عنایت فرمائی ۔
حدیث نمبر: 3070
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ ، وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا ، قَالَتْ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : تَقَدَّمَ صَاحِبِي تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَبَايَعَهُ عَلَى الإِسْلَامِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ لَهُ يَا غُلَامُ بِالدَّهْنَاءِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ مُقَيَّدُ الْجَمَلِ وَمَرْعَى الْغَنَمِ وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ يَا غُلَامُ صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ` مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں ، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا ، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء ۱؎ کو سرحد بنا دیجئیے ، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے غلام ! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو “ ، قیلہ کہتی ہیں : جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے ، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے غلام رک جاؤ ! ( مت لکھو ) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے اور کام آ سکتے ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: دہناء : ایک جگہ کانام ہے۔
حدیث نمبر: 3071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ جَنُوبٍ بِنْتُ نُمَيْلَةَ ، عَنْ أُمِّهَا سُوَيْدَةَ بِنْتِ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّهَا عَقِيلَةَ بِنْتِ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، عَنْ أَبِيهَا أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ ، فَقَالَ : " مَنْ سَبَقَ إِلَى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ " ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّاسُ يَتَعَادَوْنَ يَتَخَاطُّونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی ایسے پانی ( چشمے یا تالاب ) پر پہنچ جائے ( یعنی اس کا کھوج لگا لے ) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے “ ، ( یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا ) ( یہ سن کر ) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے ( تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے ) ۔
حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرَسِهِ فَأَجْرَى فَرَسَهُ حَتَّى قَامَ ، ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ : " أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے ، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے “ ۔