کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ ، فَقَالَ : أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوٍ مِمَّا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ : فَأُنْسِيتُهَا ، وقَالَ : الْحُمَيْدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : لَا أَدْرِي أَذَكَرَ سَعِيدٌ الثَّالِثَةَ فَنَسِيتُهَا ، أَوْ سَكَتَ عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) تین چیزوں کی وصیت فرمائی ( ایک تو یہ ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا ، دوسرے یہ کہ وفود ( ایلچیوں ) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو کیا ) لیکن میں ہی اسے بھلا دیا گیا ۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3053) صحيح مسلم (1637)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 175 (3053)، الجزیة 6 (3168)، المغازي 83 (4431)، صحیح مسلم/الوصیة 5 (1637)، (تحفة الأشراف: 5517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/222) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3030
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ :أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو ضرور با لضرور نکال دوں گا اور اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ رہنے دوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3030
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1767)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الجھاد 21 (1767)، سنن الترمذی/السیر 43 (1607)، (تحفة الأشراف: 10419)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/29، 32، 3/345) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3031
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، وَالأَوَّلُ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3031
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (3030)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10419) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكُونُ قِبْلَتَانِ فِي بَلَدٍ وَاحِدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک ملک میں دو قبلے نہیں ہو سکتے “ ، ( یعنی مسلمان اور یہود و نصاریٰ عرب میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (633،634), قابوس : فيه لين (تق : 5445) ضعيف ضعفه الجمهور, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الزکاة 11 (633)، (تحفة الأشراف: 5399)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 223، 285) (ضعیف) » (اس کے راوی قابوس ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 3033
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : قَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ : جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مَا بَيْنَ الْوَادِي إِلَى أَقْصَى الْيَمَنِ إِلَى تُخُومِ الْعِرَاقِ إِلَى الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو دَاوُد قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ ، وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَخْبَرَكَ أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : قَالَ مَالِكٌ : عُمَرُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ يُجْلَوْا مِنْ تَيْمَاءَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ ، فَأَمَّا الْوَادِي فَإِنِّي أَرَى أَنَّمَا لَمْ يُجْلَ مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید یعنی ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ` جزیرہ عرب وادی قریٰ سے لے کر انتہائے یمن تک عراق کی سمندری حدود تک ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارث بن مسکین کے سامنے یہ پڑھا گیا اور میں وہاں موجود تھا کہ اشہب بن عبدالعزیز نے آپ کو خبر دی ہے کہ مالک کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران ۱؎ کو جلا وطن کیا ، اور تیماء سے جلا وطن نہیں کیا ، اس لیے کہ تیماء ۲؎ بلاد عرب میں شامل نہیں ہے ، رہ گئے وادی قریٰ کے یہودی تو میرے خیال میں وہ اس وجہ سے جلا وطن نہیں کئے گئے کہ ان لوگوں نے وادی قری کو عرب کی سر زمین میں سے نہیں سمجھا ۔
وضاحت:
۱؎: شام و حجاز کے درمیان ایک گاؤں ہے۔
۲؎: سمندر کے قریب شام کے نواح میں ایک مقام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19251) (منقطع) » (امام مالک نے اپنی سند کا ذکر نہیں کیا اس لئے انقطاع ہے)
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ مَالِكٌ : وَقَدْ أَجْلَى عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ يَهُودَ نَجْرَانَ وَفَدَكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مالک کہتے ہیں` عمر رضی اللہ عنہ نے نجران و فدک کے یہودیوں کو جلا وطن کیا ( کیونکہ یہ دونوں عرب کی سرحد میں ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف لإنقطاعه, مالك بن أنس رحمه اللّٰه ولد بعد شهادة عمر رضي اللّٰه عنه بكثير و في الرواية الثانية ابن وھب لم يصرح بالسماع و ھو مدلس (تقدم : 102), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110, قَالَ أَبُو دَاوُد قُرِئَ عَلَي الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكَ أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ قَالَ مَالِكٌ عُمَرُ أَجْلَي أَهْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ يُجْلَوْا مِنْ تَيْمَاءَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ فَأَمَّا الْوَادِي فَإِنِّي أَرَي أَنَّمَا لَمْ يُجْلَ مَنْ فِيهَا مِنْ الْيَهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19252) (ضعیف) » (سند میں امام مالک اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے لیکن اسی معنی کی پچھلی حدیث کی سند صحیح ہے)