کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: صدقہ و زکاۃ میں چوری اور خیانت کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا ، ثُمَّ قَالَ : " انْطَلِقْ أَبَا مَسْعُودٍ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَجِيءُ عَلَى ظَهْرِكَ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ لَهُ رُغَاءٌ قَدْ غَلَلْتَهُ ، قَالَ : إِذًا لَا أَنْطَلِقُ ، قَالَ : إِذًا لَا أُكْرِهُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا : ” ابومسعود ! جاؤ ( مگر دیکھو ) ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت میں اپنی پیٹھ پر زکاۃ کا اونٹ جسے تم نے چرایا ہو لادے ہوئے آتا دیکھوں اور وہ بلبلا رہا ہو “ ، ابومسعود رضی اللہ عنہ بولے : اگر ایسا ہے تو میں نہیں جاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو میں تجھ پر جبر نہیں کرتا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی خواہ مخواہ تم جاؤ ہی بلکہ اگر تمہیں اپنے نفس پر اطمینان ہو تو جاؤ ورنہ نہ جانا ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2947
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, وله شاھد عند مسلم (1831)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9989) (حسن) »