کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2943
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم جس کو کسی کام کا عامل بنائیں اور ہم اس کی کچھ روزی ( تنخواہ ) مقرر کر دیں پھر وہ اپنے مقررہ حصے سے جو زیادہ لے گا تو وہ ( مال غنیمت میں ) خیانت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3748), صححه ابن خزيمة (2369 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1957) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ ، قَالَ : خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن الساعدی ( عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ ( وصولی ) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا ، میں نے کہا : میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے ، انہوں نے کہا : جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( زکاۃ کی وصولی کا ) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1045), مشكوة المصابيح (3749)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، والأحکام 17 (7163)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، سنن النسائی/الزکاة 94 (2605، 2607)، (تحفة الأشراف: 10487)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/17،40، 52)، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1689) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2945
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ کہہ رہے تھے : ” جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی کا خرچ بیت المال سے لے سکتا ہے ، اگر اس کے پاس کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایک خدمت گار رکھ لے اور اگر رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو رہنے کے لیے مکان لے لے “ ۔ مستورد کہتے ہیں : ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ان چیزوں کے سوا اس میں سے لے تو وہ خائن یا چور ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3751), صححه ابن خزيمة (2370 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/229) (صحیح) »