حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَنْصُورٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ فِيهَا إِلَى نَفْسِكَ وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے عبدالرحمٰن بن سمرہ ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالی معاملات کو سلجھانے و نمٹانے میں تمہاری مدد نہیں کرے گا۔
۲ ؎: یعنی تم معاملات کو بہتر طور پر انجام دے سکو گے۔
۲ ؎: یعنی تم معاملات کو بہتر طور پر انجام دے سکو گے۔
حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ ، فَقَالَ :إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ ، فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَهُ فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ حَتَّى مَاتَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، ان میں سے ایک نے ( اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے “ ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی ، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہمیں عامل بنا دیجئے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئے۔