کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4282، 4283) صحيح مسلم (1614)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المغازي 48 (4283)، الفرائض 26 (6764)، صحیح مسلم/الفرائض (1614)، سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2730)، (تحفة الأشراف: 113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/200، 201، 208، 209) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2910
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حِجَّتِهِ ؟ قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ؟ ، ثُمَّ قَالَ : نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي الْمُحَصَّبِ ، وَذَاكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُئْوُوهُمْ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْخَيْفُ الْوَادِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائے قیام چھوڑی ہے ؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بنی کنانہ کے خیف یعنی وادی محصب میں اتریں گے ، جہاں قریش نے کفر پر جمے رہنے کی قسم کھائی تھی “ ۔ بنو کنانہ نے قریش سے عہد لیا تھا کہ وہ بنو ہاشم سے نہ نکاح کریں گے ، نہ خرید و فروخت ، اور نہ انہیں اپنے یہاں جگہ ( یعنی پناہ ) دیں گے ۔ زہری کہتے ہیں : خیف ایک وادی کا نام ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی باب سے مطابقت اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی وفات کے وقت عقیل اسلام نہیں لائے تھے، اس لئے وہ ابوطالب کی میراث کے وارث ہوئے، جب کہ علی اور جعفر رضی اللہ عنہما اسلام لانے کے سبب ابوطالب کی میراث کے حقدار نہ بن سکے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3058) صحيح مسلم (1351)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم: (2010) (تحفة الأشراف: 114) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو دین والے ( یعنی مسلمان اور کافر ) کبھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3046)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8669)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 16 (2109)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2732)، مسند احمد (2/178، 195) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ الْوَاسِطِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ يَهُودِيٌّ ، وَمُسْلِمٌ فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ مِنْهُمَا ، وَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُعَاذًا حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ` دو بھائی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کے پاس لے گئے ان میں سے ایک یہودی تھا ، اور ایک مسلمان ، انہوں نے مسلمان کو میراث دلائی ، اور کہا کہ ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے بیان کیا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اسلام بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے “ پھر انہوں نے مسلمان کو ترکہ دلایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ’’ رجل ‘‘ مجهول كما قال المنذري والبيهقي وغيرھما (انظر عون المعبود 85/3), وھو صحيح عن يحيي بن يعمر رحمه اللّٰه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11318)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 236) (ضعیف) » (اس کی سند میں ایک راوی رجلا مبہم ہیں)
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، أَنَّ مُعَاذًا أُتِيَ بِمِيرَاثِ يَهُودِيٍّ وَارِثُهُ مُسْلِمٌ بِمَعْنَاهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ` معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کا ترکہ لایا گیا جس کا وارث ایک مسلمان تھا ، اور اسی مفہوم کی حدیث انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2912) وسقوط الرجل من السند لا يفيده شيئًا إلا إذا صرح بالسماع وھذا لم أجده ھاھنا, انظر مقدمة ابن الصلاح (ص290،نوع 37), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11318) (ضعیف) »