کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَرْأَةُ تُحْرِزُ ثَلَاثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں` آپ نے فرمایا : ” عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے : اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی ، راہ میں پائے ہوئے بچے کی ، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو ( یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو ) تو عورت اس کی وارث ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2115) ابن ماجه (2742), عمر بن رؤبة ضعفه البخاري والجمهور فھو ضعيف يعتبر به, انظر التحرير (4895), وقال ابن عدي : ’’ وإنما أنكروا عليه أحاديثه عن عبدالواحد النصري ‘‘ (الكامل 1707/5), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفرائض 23 (2115)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 12 (2742)، (تحفة الأشراف: 11744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490، 4/106) (ضعیف) » (اس کے راوی عمر بن رؤبة ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَمُوسَى بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِيرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ وَلِوَرَثَتِهَا مِنْ بَعْدِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مکحول کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والی عورت کے بچے کی میراث اس کی ماں کو دلائی ہے پھر اس کی ماں کے بعد ماں کے وارثوں کو دلائی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ باپ کو اور اس کے وارثوں کو بچے سے واسطہ نہ رہا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البيهقي : ’’ حديث مكحول منقطع ‘‘ (السنن الكبري 6/ 259), فالسند ضعيف, وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8771)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 24 (3010) (صحیح) » (اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ یہ مرسل روایت ہے کیونکہ مکحول تابعی ہیں)
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل وكان يدلس تدليس التسوية, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8771) (صحیح) »