کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ ، وَرُبَّمَا قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ لَهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص بوجھ ( قرضہ یا بال بچے ) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے ، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۲؎ اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں ، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا ، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا ۔
وضاحت:
۱؎: میت کا ایسا رشتہ دار جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبہ میں سے۔
۲؎: یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کی اولاد کی خبر گیری کروں گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2899
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3052), وله شاھد عند ابن حبان (1226 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الفرائض 9 (2738)، والدیات 7 (2634)، (تحفة الأشراف: 11569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، فِي آخَرِينَ قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنْ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَائِذٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ ، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاهُ عِيَالٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں ، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے ، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے ، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں ، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا ، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا ، اور جس کا کوئی والی نہیں ، اس کا ماموں اس کا والی ہے ( یہ ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے ، راشد نے ابن عائذ سے ، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2900
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3052), انظر الحديث السابق (2899)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11569) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَفُكُّ عَانِيَهُ وَأَرِثُ مَالَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَفُكُّ عَانِيَهُ وَيَرِثُ مَالَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا ، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا ، اور ماموں اس کا وارث ہے ۱؎ جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا ، اور اس کے مال کا وارث ہو گا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے بھانجے کا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2901
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (2899)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11576) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ ، وقَالَ مُسَدَّدٌ : قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مَنْ أَهْلِ أَرْضِهِ ، قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : فَأَعْطُوهُ مِيرَاثَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مر گیا ، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑ ا ، نہ کوئی اولاد ، اور نہ کوئی عزیز ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے ، مسدد کی روایت میں ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : ہاں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا ترکہ اس کو دے دو “ ۔
وضاحت:
۱؎: وہ ترکہ آپ کا حق تھا مگر آپ نے اس کے ہم وطن پر اسے صدقہ کر دیا، امام کو ایسا اختیار ہے اس میں کوئی مصلحت ہی ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2902
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3055)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفرائض 13 (2105)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2733)، (تحفة الأشراف: 16381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137، 174، 181) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2903
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ : اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا ، قَالَ : فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : عَلَيَّ الرَّجُلُ ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ : انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو “ ۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو ، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو “ ، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ “ ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ جو سب سے بڑا ہو گا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہو گا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہو گا ازد سے بھی زیادہ قریب ہو گا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف بل صحيح, نسائي في الكبريٰ (6396), المحاربي عنعن وھو مدلس, ولكن تابعه عباد بن العوام (نك 6395) فالحديث حسن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (ضعیف) » (اس کے راوی ’’جبریل بن احمر‘‘ ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَسْوَدَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ ، فَقَالَ : الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا ، أَوْ ذَا رَحِمٍ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوهُ الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ " ، وَقَالَ يَحْيَى : قَدْ سَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` خزاعہ ( قبیلہ ) کے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، اس کی میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا : ” اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو “ تو نہ اس کا کوئی وارث ملا ، اور نہ ہی کوئی ذی رحم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو “ ۔ یحییٰ کہتے ہیں : ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے : دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اوپری نسب میں خزاعہ سے نزدیک ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي في الكبريٰ (6394), شريك القاضي عنعن, و الحديث السابق (2903) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1955) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 2905
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا غُلَامًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَهُ أَحَدٌ ؟ ، قَالُوا : لَا إِلَّا غُلَامًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ " ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ لَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مر گیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کر چکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا کوئی اس کا وارث ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتق (آزاد کیا ہوا) بھی وارث ہوتا ہے جب آزاد کرنے والے کا کوئی اور وارث نہ ہو، لیکن جمہور اس کے خلاف ہیں اور حدیث بھی ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2905
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3065), أخرجه ابن ماجه (2741 وسنده حسن) عوسجة: حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفرائض 14 (2106)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 11 (2741)، (تحفة الأشراف: 6326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/221، 358) (ضعیف) » (اس کے راوی عوسجہ مجہول ہیں)