کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عصبہ کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2898
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَمخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ مَخْلَدٍ ، وَهُوَ الأَشْبَعُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْسِمْ الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذوی الفروض ۱؎ میں مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر دو اور جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کو ملے گا جو میت سے سب سے زیادہ قریب ہو ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: ذوی الفروض: وہ وارثین ہیں جن کے حصے کتاب اللہ میں مقرر ہیں۔
۲؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2898
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6732) صحيح مسلم (1615)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الفرائض 5 (6732)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1615)، سنن الترمذی/الفرائض 8 (2098)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 10 (2740)، (تحفة الأشراف: 5705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292، 313، 325)، سنن الدارمی/الفرائض 28 (3030) (صحیح) »