حدیث نمبر: 2859
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا ، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص صحراء اور بیابان میں رہے گا اس کا دل سخت ہو جائے گا ، اور جو شکار کے پیچھے رہے گا وہ ( دنیا یا دین کے کاموں سے ) غافل ہو جائے گا ، اور جو شخص بادشاہ کے پاس آئے جائے گا وہ فتنہ و آزمائش میں پڑے گا ( اس سے دنیا بھی خراب ہو سکتی ہے اور آخرت بھی ) “ ۔
حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ ، قَالَ : " وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ زَادَ ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے` اس میں ہے : ” جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا “ اور اتنا اضافہ ہے : ” جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: تیر کے موجود رہنے کی شرط اس لئے ہے کہ شکاری کو یہ یقین ہو جائے کہ شکار کی موت کا سبب شکاری کا تیر ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز اس کی موت کا سبب بنی ہے۔