حدیث نمبر: 2825
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ «متردی» ۱؎ اور «متوحش» ۲؎ کے ذبح کا طریقہ ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جو جانور گر پڑے اور ذبح کی مہلت نہ ملے۔
۲؎: ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔
۲؎: ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔