کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2817
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ :فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه» ” سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ “ ( سورۃ الانعام : ۱۱۸ ) «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ” اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو “ ( سورۃ الانعام : ۱۲۱ ) تو یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے ، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہو گئے ہیں ( یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں ) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «وطَعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم» ” اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے “ ( سورۃ المائدہ : ۵ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6259) (حسن) »
حدیث نمبر: 2818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121 يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوا وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے : «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ” اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں “ ( سورۃ المائدہ : ۱۲۱ ) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے : جسے اللہ نے ذبح کیا ( یعنی اپنی موت مر گیا ) اس کو نہ کھاؤ ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ” ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا “ ( سورۃ الانعام : ۱۲۱ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2818
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3173), سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة, وللحديث شاھد ضعيف في المعجم الكبير للطبراني (11614), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
تخریج حدیث « سنن النسائی/الضحایا 40 (4448)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 4 (3173)، (تحفة الأشراف: 6111) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2819
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتْ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلَا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لكن ذكر اليهود فيه منكر والمحفوظ أنهم المشركون , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطاء بن السائب : صدوق اختلط (تق : 4592) ولم يثبت تحديثه به قبل اختلاطه ورواه الترمذي (3069) بلفظ : ’’ أتي ناس النبي ﷺ ‘‘ وسنده ضعيف كسند أبي داود, و’’ ناس ‘‘ھم المشركون كما في رواية النسائي (7 /237 ح 4442) وسنده حسن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102
تخریج حدیث « سنن الترمذی/تفسیر الأنعام 6 (3069)، (تحفة الأشراف: 5568) (صحیح) » (یہود کا تذکرہ وہم ہے اصل معاملہ مشرکین کا ہے، ترمذی میں کسی کا تذکرہ نہیں ہے صرف الناس ہے)