کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ،عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ " ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) قربانی کی اور کہا : ” ثوبان ! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو ( بناؤ ) “ ، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں برابر وہی گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1955)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأضاحي 5 (1975)، (تحفة الأشراف: 2076)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277، 281)، سنن الدارمی/الأضاحي 6 (2003) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2815
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا قَالَ : غَيْرُ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ : ” اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم ( قصاص یا حد کے طور پر کسی کو ) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو ( یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو ) “ ، ( اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے ) ” تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو ، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5513) صحيح مسلم (1956)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن الترمذی/الدیات 14 (1409)، سنن النسائی/الضحایا 21 (4410)، 26 (4419)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 3 (3170)، (تحفة الأشراف: 4817)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/123، 124، 125)، سنن الدارمی/الأضاحي 10 (2013) (صحیح) »