کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟
حدیث نمبر: 2797
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً ، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صرف مسنہ ۱؎ ہی ذبح کرو، مسنہ نہ پاؤ تو بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو “۔
وضاحت:
۱؎: مسنہ وہ جانور جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ برس پورے کر کے چھٹے میں داخل ہو گیا ہو، گائے بیل اور بھینس جب وہ دو برس پورے کرکے تیسرے میں داخل ہو جائیں، بکری اور بھیڑ میں جب ایک برس پورا کرکے دوسرے میں داخل ہو جائیں، جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہو چکا ہو، اہل لغت اور شارحین میں محققین کا یہی قول صحیح ہے، (دیکھئے مرعاۃ شرح مشکاۃ)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1963)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1962)، سنن النسائی/الضحایا 12 (4383)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3141)، (تحفة الأشراف: 2715)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 327) (صحیح) » (اس حدیث پر مزید بحث کے لئے ملاحظہ ہو: ضعیف أبي داود 2/374، والضعیفہ 65، والإرواء 1145، وفتح الباري 10/15)
حدیث نمبر: 2798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طُعْمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا ، : فَرَجَعْتُ بِهِ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ جَذَعٌ ، قَالَ : ضَحِّ بِهِ ، فَضَحَّيْتُ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھ کو ایک بکری کا بچہ جو جذع تھا (یعنی دوسرے سال میں داخل ہو چکا تھا) دیا، میں اس کو لوٹا کر آپ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یہ جذع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کی قربانی کر ڈالو “، تو میں نے اسی کی قربانی کر ڈالی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أبو جعفر محمد بن صدران البصري: قال أبو حاتم الرازي: صدوق، وقال النسائي: لا بأس به، وصححه غير واحد
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3751)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، والشرکة 12 (2500)، والأضاحي 2، (5547) 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (1500)، سنن النسائی/الضحایا 12 (4384)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3138)، مسند احمد (4/149، 152، 5/194)، سنن الدارمی/الأضاحي 4 (1996)، کلھم عن عقبة بن عامر رضي اللہ عنہ (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 2799
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَالُ لَهُ مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کلیب کہتے ہیں کہ` ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: ” جذع (ایک سالہ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» (وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں) کفایت کرتا ہے “۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1467), وله شاھد صحيح عند الحاكم (4/226 ح 7538)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الضحایا 12(4389)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3140)، (تحفة الأشراف: 11211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/368) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ، فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي ، قَالَ : نَعَمْ ، وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ” جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی (یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ۱؎ ہو گی “، یہ سن کر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ گوشت کی بکری ہے ۲؎ “، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ جوان بکری اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی (یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے) “۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یہ قربانی شمار نہیں ہو گی اور نہ ہی اسے قربانی کا ثواب ملے گا اس سے صرف گوشت حاصل ہو گا جسے وہ کھا سکتا ہے۔
۲؎: یعنی اس سے تمہیں صرف گوشت حاصل ہوا قربانی کا ثواب نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (983) صحيح مسلم (1961)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العیدین 3 (951)، 5 (955)، 8 (975)، 10 (968)، 17 (976)، 23 (983)، الأضاحي 1 (5545) (5556)، 8 (5557)، 11 (5557)، 12 (5563)، الأیمان والنذور 15 (6673)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1961)، سنن الترمذی/الأضاحي 12 (1508)، سنن النسائی/العیدین 8 (1564)، الضحایا 16 (4400)، (تحفة الأشراف: 1769)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/280، 297، 302، 303)، سنن الدارمی/الأضاحي 7 (2005) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2801
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ ، فَقَالَ : اذْبَحْهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی “، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں “۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5556) صحيح مسلم (1961)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1769) (صحیح) »