کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مردے کی طرف سے قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2790
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنش کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ ( یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں ) تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں ، تو میں آپ کی طرف سے ( بھی ) قربانی کرتا ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2790
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1495), شريك والحكم بن عتيبة مدلسان و عنعنا, و أبو الحسناء ’’مجهول‘‘ (تقريب التهذيب: 8053), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأضاحي 3 (1495)، (تحفة الأشراف: 10072)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/107، 149، 150) (ضعیف) » (اس کے راوی ابوالحسناء مجہول ہیں ، نیز حنش کے بارے میں بھی اختلاف ہے)