کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لڑائی میں غنیمت کے ہتھیار کا استعمال جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ أَبِي إِسْحَاق السُّبَيْعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق السُّبَيْعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرَرْتُ فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ صَرِيعٌ قَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ يَا أَبَا جَهْلٍ قَدْ أَخْزَى اللَّهُ الْأَخِرَ قَالَ : وَلَا أَهَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَقَالَ : أَبْعَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَلَمْ يُغْنِ شَيْئًا حَتَّى سَقَطَ سَيْفُهُ مِنْ يَدِهِ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى بَرَدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ( غزوہ بدر میں ) گزرا تو ابوجہل کو پڑا ہوا دیکھا ، اس کا پاؤں زخمی تھا ، میں نے کہا : اللہ کے دشمن ! ابوجہل ! آخر اللہ نے اس شخص کو جو اس کی رحمت سے دور تھا ذلیل کر ہی دیا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اس سے ڈر نہیں رہا تھا ، اس پر اس نے کہا : اس سے زیادہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے مار ڈالا اور یہ کوئی عار کی بات نہیں ، پھر میں نے اسے کند تلوار سے مارا لیکن وار کارگر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی ، تو اسی کی تلوار سے میں نے اس کو ( دوبارہ ) مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي في الكبريٰ (8670), أبو إسحاق السبيعي عنعن وأبو عبيدة عن أبيه : منقطع, وحديث البخاري (39613963) ومسلم (1800) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9619)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (8670)، مسند احمد (1/403، 406، 422، 444) (صحیح) »