کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْعَزِيزِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الأُرْدُنِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : رَابَطْنَا مَدِينَةَ قِنَّسْرِينَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ فَلَمَّا فَتَحَهَا أَصَابَ فِيهَا غَنَمًا وَبَقَرًا فَقَسَمَ فِينَا طَائِفَةً مِنْهَا وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ ، فَلَقِيتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ مُعَاذٌ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَصَبْنَا فِيهَا غَنَمًا فَقَسَمَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفَةً وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ` ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا ، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں ، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے ان سے بیان کیا ، تو آپ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: گویا کھانے پینے کی چیزیں حسب ضرورت مجاہدین میں تقسیم کر دی جائیں گی اور بقیہ مال غنیمت میں شامل کر دیا جائے گا ان کا بیچنا صحیح نہیں ہو گا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11334) (حسن) »